صدقہ صرف پیسہ نہیں ہوتا
آج میں ایک پوش ریسٹورانٹ میں بیٹھا تھا۔ میرے ساتھ والی میز پر ایک صاحب موجود تھے، جن کا ویٹر نے شاہانہ آرڈر پیش کیا- بہترین برگر، فرنچ فرائز کا ڈھیر اور ایک ٹھنڈی بوتل۔ اتنے میں کپکپاتے ہاتھ۰۰۰
اتنے میں ریسٹورانٹ کے شیشے کے دروازے سے ایک گھسے پرانے کپڑوں میں مزدور گزرا۔ اُس کے چہرے پر تھکاوٹ، ہاتھوں میں پکی ہوئی مٹی، اور آنکھوں میں ایک عجیب سی بھوک تھی — شاید کئی دنوں سے پکی روٹی کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ ایک طرف دبیز سیٹ پر بیٹھ گیا، شاید کچرا اٹھانے والوں کے لیے مختصر جگہ۔
اُس صاحب نے فوراً دیکھ لیا۔ اُن کی آنکھوں میں ایک کپکپاہٹ دوڑی۔ وہ ویٹر کو اشارہ کرکے رک گئے، پھر خود اُٹھ کر مزدور کے پاس گئے۔
”انکل،“ اُن کی آواز نرم تھی، ”آپ میرے ساتھ کھانا پسند کریں گے؟“
مزدور نے حیرت سے دیکھا۔ اُس کی تھرتھراتی انگلیوں نے جواب دیا، ”بیٹا، میں تو بس پانی مانگنے آیا تھا...“
لیکن اُس صاحب نے اپنی پوری پلیٹ — برگر، فرائز اور بوتل — مزدور کے سامنے رکھ دی۔ ”انکل، برگر چکھیں۔“
پھر وہ بغیر کچھ کھائے اُٹھے، بل ادا کیا، اور چلے گئے۔ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
مزدور نے آنکھیں بند کر کے برگر کو ہاتھ لگایا، جیسے کوئی انمول تحفہ ہو۔ اُس کی پلکیں نم تھیں۔
آج مجھے سمجھ آ گیا — صدقہ صرف پیسے کا نام نہیں، یہ تو اُس وقت کی دولت ہے جب آپ اپنی خوشی کا ٹکڑا کسی دوسرے کے دکھ پر رکھ دیں۔ اُس صاحب نے صرف برگر نہیں دیا، ایک انسان کا کھویا ہوا اعتماد لوٹا دیا۔
برگر تو روز کھا سکتے ہو، مگر ایسا لمحہ عمر میں ایک بار آتا ہے۔
*تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے*



Post a Comment
0 Comments
if u have any doutes please let me know